نئی دہلی ، 25؍جنوری (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )بینکوں سے پچاس ہزار روپے اور اس سے زیادہ نقدنکالنے پر ٹرانزیکشن ٹیکس لگائے جانے کی سفارش کرتے ہوئے وزرائے اعلی کی کمیٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنی عبوری رپورٹ سونپ دی ہے ۔ڈیجیٹل لین دین سے متعلق قائم اس کمیٹی کی صدارت آندھرا پردیش کے وزیر اعلی این چندر ا بابو نائیڈو نے کررہے تھے ۔غورطلب ہے کہ کانگریس کی قیادت والے یو پی اے اتحاد کو2005میں ایسا ہی قدم اٹھا یا تھا،لیکن اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے بعد حکومت کو اسے واپس لینے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔لیکن اب نائیڈو نے اس قدم کی حمایت کرتے ہوئے دلیل دی ہے کہ اس وقت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نہیں تھا ، اسی وجہ سے اس قدم کی مخالفت کی گئی تھی ، اب ہمارے پاس ڈیجیٹل ٹرانزیکشن اور موبائل ہیں جو ان سب کو بے حد آسان بناتے ہیں۔نائیڈو نے آگے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کی سفارشات کو آئندہ مرکزی بجٹ، جوکہ یکم فروری کو پیش کیا جانا ہے، میں شامل کیا جائے گا۔قابل ذکرہے کہ اس کمیٹی نے ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینے کے لیے کئی سفارشات کی ہیں جن میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگی پر بینکوں کی جانب سے لئے جانے والے ٹیکس کو ہٹایا جانا ، آمدنی کے طے تناسب میں ڈیجیٹل ادائیگی کرنے والے صارفین کو ٹیکس واپسی اور اسمارٹ فون پر 1000روپے کی چھوٹ دئیے جانے کی سفارشات شامل ہیں۔وزرائے اعلی کی اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ بڑے لین دین کے معاملے میں نقدی کے استعمال پر روک لگانے کے لیے 50000روپے سے زیادہ کے لین دین پر بینک کی طرف سے ٹیکس لگایا جائے۔ہر طرح کے بڑے لین دین میں کیش کے لین دین کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کی جائے۔سفارشات میں آدھار کارڈ کے استعمال پر خصوصی زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ بینکوں کی جانب سے کے وائی سی فارم میں آدھار کارڈ نمبر کو بنیادی شناختی نشان بنایا جانا چاہیے اور اس سلسلے میں موجودہ آدھار قانون کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔رپورٹ میں ڈیجیٹل ادائیگی کے معاملے میں ہندوستان دنیا میں کتنا پیچھے ہے، اس حقیقت کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔اس کے مطابق، جہاں چین میں ہر 10لاکھ افراد پر ڈیجیٹل ادائیگی کے لیے 16602پے پوائنٹ ، میکسیکو میں7189، برازیل میں 25241اور سنگاپور میں 31096پے پوائنٹ ہیں، وہیں ہندوستان میں ہر 10لاکھ افراد پر صرف 1080ڈیجیٹل ادائیگی کے مراکز ہیں۔کمیٹی نے مائیکرو اے ٹی ایم کے لیے ٹیکسوں میں مراعات دینے کی سفارش بھی کی ہے، ساتھ ہی ڈیجیٹل ادائیگی کو فروغ دینے کے لیے گائڈ لائن میں بھی تبدیلی کی سفارش کی ہے۔یہ کمیٹی گزشتہ سال نوٹ بندی کے اعلان کے بعد نومبر میں قائم کی گئی تھی۔کمیٹی کا مقصد شفافیت لانے کے لیے ڈیجیٹل لین دین کے نظام کو فروغ دینا، مالیاتی شمولیت اور اس سلسلے میں ایک فریم ورک تیار کرنا تھا۔